Press Release DG ACE

لاہور()  ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا کے زیر صدارت ہونیوالے اجلا س میں جولائی 2016ءسے جنوری 2018ءتک ہونیوالی محکمانہ کارروائیوں کی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔دو ارب روپے کا کیش قومی خزانے میں جمع اوراراضی واگزار کرائی گئی مزید تین ارب کا حصول قریب ہے ،نیز اس عرصے کے دوران 33821شکایات موصول ہوئیں، 33198نمٹائی گئیں۔ 16840انکوائریوں کا آغاز کیاگیا جبکہ 16499نمٹادی گئیں۔ 4175کیس درج ہوئے 3527پایہ تکمیل تک پہنچائے گئے۔ 1919چالان جمع کرائے گئے ، 2869گرفتاریاں ہوئیں۔509سے زائد ریڈ کیے گئے اور مجموعی طور پر126.24ملین ڈائریکٹ ریکوری کی گئی ۔ اجلاس میں مال مقدمہ میں ریکوری، کیسوں کی ڈیڈ لائن اور ریجنل ڈائریکٹرز کے سرکل اور تحصیل دفاتر کے دورہ سمیت اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ہیڈ آفس میں ہونیوالے ریجنل اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ،تمام ریجنل ڈائریکٹر صاحبان اور ہیڈ کوارٹر کے افسران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا نے کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن اپنے کام میں آزاد ہے اور اس لئے پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی ، پنجاب صاف پانی کمپنی ، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی اور پنجاب کانسٹیبلری ملتان میںکرپشن جیسے بڑے سکینڈلز میں ہمیں کامیابی ملی ہے لیکن پھر بھی ہمیں مزید آگے جاکر محکمے کی نیک نامی میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ راولپنڈی میں اینٹی کرپشن ریجنل دفتر بنانے کیلئے سات کنال جگہ حاصل کرلی گئی ہے جبکہ سرگودھا میں اینٹی کرپشن کا ایک خوبصورت دفتر تعمیر ہوچکا ہے جبکہ ساہیوال کا زیر تعمیر ہے،ان دفاتر کا مقصد افسران کوکام کرنے کیلئے بہترین ماحول فراہم کرنا ہے، اسی طرح اینٹی کرپشن کے جدید کمپیوٹرائز سسٹم کی ناصرف ورلڈ بینک کے نمائندے اور پلڈاٹ بلکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور جمالی نے بھی اسے ایشیاءکا بہترین کیس مینجمنٹ سسٹم قرار دیا ہے ۔ انہوںنے تمام ریجنل ڈائریکٹرز کو 2015ءتک کے تمام کیس اگلے دو ماہ 30اپریل اور2016ءکے تمام کیس رواں سال جون تک نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ افسران مال مقدمہ کے کیسوں میں ریکوری کویقینی بنائیں تاکہ قومی خزانے میں جمع ہوسکے۔ کانفرنس میں ترجمان اینٹی کرپشن سعدیہ اعجاز نے 2008ءسے 2017ءکے دوران کیسوں کے اعدادو شمار پردہ سکرین پر پیش کیے جن کے مطابق محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کیخلاف 607۔کمیونی کیشن اینڈ ورکس کیخلاف 249۔پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کیخلاف 249۔ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 195۔ہاﺅسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کیخلاف 165۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 127۔سکول ایجوکیشن کیخلاف 125۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کیخلاف 82۔ہوم ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 61۔محکمہ زراعت کیخلاف 59۔سروس اینڈ جنرل ایڈ منسٹریشن کیخلاف 58۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 55۔محکمہ کوآپریٹو کیخلاف 33۔لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 28۔فنانس ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 25۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کیخلاف 23۔انڈسٹریز، کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کیخلاف 21۔محکمہ خوراک کیخلاف 20۔پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کیخلاف 19۔پاپولیشن ویلفیئرڈیپارٹمنٹ کیخلاف 19۔سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کیخلاف 11۔اوقاف و مذہبی امور کیخلاف 9۔سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کیخلاف 8۔پبلک پراسی کیوشن کیخلاف 8۔انفارمیشن اینڈ کلچر کیخلاف 7۔یوتھ افیرزسپورٹس آرکیالوجی اور ٹورازم کیخلاف 6۔لیبر اینڈ ہیومن ریسورس کیخلاف 5۔زکوة و عشر کیخلاف 4۔انوائرمنٹ پروٹیکشن کیخلاف 4۔ٹرانسپورٹ کیخلاف 3۔ انرجی ڈیپارٹمنٹ کیخلاف 3۔لاءاینڈ پارلیمنٹری افیرز کیخلاف 3۔مائنز اینڈ ڈویلپمنٹ کیخلاف 2۔کنسالیڈیشن اینڈ ہوڈلنگ کیخلاف 1۔ہیومن رائٹس اینڈ مینارٹی افیرز کیخلاف 1کیس درج ہوا۔یہ تمام کیس گریڈ 17سے 22کے افسران کیخلاف کرپشن کے معاملات پر درج ہوئے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھانے افسران کے کام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ انصاف کی بروقت فراہمی کیلئے جدید خطوط پر تحقیقات کی جائیں تاکہ سائلین کو انصاف ملنے میں تاخیر نہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ اینٹی کرپشن پر عوام کا اعتماد بڑھا، کرپشن کرنیوالوں سے بلاتمیز نمٹنے کی پالیسی سے بہترین نتائج ملے۔ افسران نے آپریشنل مقاصد کیلئے گاڑیوں کی فراہمی پر حکومت پنجاب اور محکمے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے بروقت کارروائیوں میں آسانی ہوگی اور بہترین نتائج حاصل ہوسکیں گے ۔

15-02-2018

 ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب لاہور، نے تمام ریجنل ڈائریکٹرز اور ہیڈ کوارٹر میں ہدایات جاری کردیں کہ اینٹی کرپشن کے زیر حراست تمام ملزمان کی کوئی بھی تصویر یا ویڈیوکسی  بھی سطح پر سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، اور واٹس اپ گروپ میں شیئر نہیں کی جائیں گی اور ملزمان کے ساتھ کسی بھی قسم کی مارپیٹ یا تشدد کرنے سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

29-03-2018

ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب لاہور، نے تمام ریجنل ڈائریکٹرز اور ہیڈ کوارٹر میں ہدایات جاری کردیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شہدا اور لائن اآف کنٹرول پر شہید ہونے سوالے فوجی ، پولیس اہلکاران ، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاران اور عام شہری جو کہ شہید ہو چکے ہیں کے اہل خانہ کی سہولت کے لئے فرنٹ  ڈیسک قائم کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فرنٹ ڈیسک صرف شہدا کے ورثا کی شکایات کے جلد ازالے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔

29-03-2018

 

محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب لاہور اور اس کے ذیلی اداروں کو اس بات کا پتا چلا ہے کہ صوبہ بھر میں کچھ گروہوں اور تنظیموں نے اینٹی کرپشن کے نام پر غیر قانونی دفاتر کھول رکھے ہیں ۔ جس کی وجہ سے یہ گروہ اور تنظیمیں عوام الناس اور سرکاری ملازمین کو ہراساں کر رہے ہیں اور اپنے ناجائز اور غیر قانونی مفادات حاصل کر رہے ہیں ۔ ایسی تنظیموں اور گروہوں کے سد باب کے لئے ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب لاہور، نے تمام ریجنل ڈائریکٹرز اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب، کو ہدایات جاری کردیں ہیں کہ ان غیر قانونی گروہ اور تنظیموں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف محکمہ پنجاب پولیس کی مدد سے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ کیونکہ یہ تنظیمیں ایک طرف محکمہ انسداد رشوت ستانی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہیں ہیں اور دسری طرف سرکاری ملازمین کو بلیک میل کر کے اپنے غیر قانونی مفادات حاصل کر رہیں ہیں۔

06-04-2018